مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران پاکستان کی برآمدات 18 ارب ڈالر تک محدود رہیں جبکہ درآمدات بڑھ کر 40 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئیں، جس سے تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں پاکستانی شہریوں نے 106 ارب روپے کی چائے استعمال کی، جبکہ صرف اسمارٹ فونز کی درآمد ایک ارب 13 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہی، جو آئی ایم ایف کے قرض کی ایک قسط سے بھی زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر 321 ارب روپے مالیت کے موبائل فون درآمد کیے گئے، جس میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق 7 ماہ کے دوران ڈھائی ارب ڈالر مالیت کی گاڑیاں اور اسمارٹ فونز درآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ غذائی اشیاء کی درآمد میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی حجم 5 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔
مشینری کی درآمد میں بھی 13 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد اس کا حجم 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ اسی طرح کاروں، بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کی درآمد میں 94 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق درآمدات میں مسلسل اضافے اور برآمدات کی کم رفتار کے باعث ملک کے تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔