عمران خان کے طبی معائنے پر متضاد بیانات، سیاسی بحث میں شدت

image

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور علاج سے متعلق متضاد بیانات سامنے آنے کے بعد سیاسی اور عوامی سطح پر بحث میں شدت آگئی ہے حالانکہ ذرائع کے مطابق ابتدائی معائنے میں شامل ڈاکٹرز نے علاج اور طبی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز کی میڈیکل ٹیم کے دو سینئر ڈاکٹرز نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نامزد ڈاکٹر ندیم قریشی کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ معائنے کے بعد سینئر اپوزیشن رہنماؤں، جن میں راجہ ناصر عباس اور گوہر علی خان شامل تھے کو پمز میں بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس دوران شوکت خانم اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر خرم مرزا اور عاصم یوسف سے 45 منٹ پر مشتمل فون مشاورت بھی کی گئی جس میں معائنے، ٹیسٹ رپورٹس اور علاج کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ شوکت خانم کے معالجین نے علاج کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے معائنہ کرنے والی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی میں درج نکات کے تحت پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹرز نے علاج کو حوصلہ افزا اور درسی اصولوں کے مطابق قرار دیا ۔ ڈاکٹر عاصم یوسف نے مبینہ طور پر عمران خان کے اہل خانہ کی جانب سے طبی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ طبی انتظامات پر تنقید نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

مزید بتایا گیا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ ڈاکٹرز کو مریض کی رضامندی سے میڈیکل سمری، ٹیسٹ رپورٹس اور دیگر ریکارڈ تک رسائی دی گئی۔ صحت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کے دوران کولیسٹرول کی سطح میں معمولی اضافے کا ذکر بھی سامنے آیا تاہم فوری اضافی مداخلت کی ضرورت مسترد کرتے ہوئے آئندہ معائنے میں صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کی سفارش کی گئی۔

پمز کے ایک سینئر معالج ڈاکٹر عارف نے اس تاثر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور کہا کہ وہ اسی نوعیت کے انجکشن ایک ہزار سے زائد مریضوں کو دے چکے ہیں۔

تاہم معاملے نے نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب اگلے روز ڈاکٹر عاصم یوسف نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ بعض تفصیلات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے عمران خان کا ذاتی طور پر معائنہ نہیں کیا۔ اس بیان کے بعد طبی معائنے سے متعلق ابہام پیدا ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج اور دھرنوں کی منصوبہ بندی جاری رہی۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کی سینئر قیادت کو طبی معائنے کے نتائج سے آگاہ کیا گیا تھا تاہم سیاسی سطح پر سخت مؤقف برقرار رکھا گیا۔

مزید یہ کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے مبینہ طور پر اس معاملے پر سخت مؤقف اپنانے پر زور دیا اور بعض رہنماؤں کی جانب سے اطمینان کے اظہار کو ناپسند کیا۔ ایک احتجاجی موقع پر اہل خانہ اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان سرد مہری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جس سے صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی۔

اگرچہ طبی معائنے کی کارروائی میں علاج پر اطمینان کا ذکر کیا گیا ہے تاہم مختلف بیانات اور مؤقف کے باعث معاملے پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US