رمضان المبارک کے پہلے ہفتے کے دوران ملک بھر میں مہنگائی نے نیا ریکارڈ قائم کرلیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو افطار کے لیے بنیادی اشیائے خور ونوش کی خریداری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں سرکاری نرخ ناموں کے باوجود مارکیٹ میں اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ منافع خور عناصر کھلے عام شہریوں کا استحصال کر رہے ہیں۔
سرکاری نرخ کے مطابق امرود 145 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، تاہم مارکیٹ میں یہ 350 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح خربوزہ سرکاری قیمت 240 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
مہنگائی کی صورتحال سنگین ہے، جہاں کیلے 400 روپے فی درجن جبکہ سیب 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
فیصل آباد کے سستا بازار بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے، جہاں اسٹرابیری کی قیمت 1,000 روپے فی کلو تک پہنچ گئی جبکہ کیلے 250 روپے فی درجن فروخت ہو رہے ہیں۔
اسی طرح پشاور میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں اسٹرابیری 710 روپے فی کلو اور ایرانی سیب 440 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ دالوں اور بیسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے روایتی افطاری اشیاء کی تیاری مہنگی ہوگئی ہے۔
شہریوں نے انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکاندار من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔
عوام نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جاسکیں اور رمضان میں شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔