سپریم کورٹ کا ہرجانہ کیس میں حکم امتناع، وزیر اعظم سے جواب طلب

image

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کیس میں ٹرائل کورٹ کو سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے وزیر اعظم سے جواب طلب کر لیا۔

جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے لاہور کی ٹرائل کورٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت دعوے میں حقِ دفاع ختم کرنے کے اقدام کے خلاف حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے شہباز شریف کو نوٹس جاری کر دیا۔

دورانِ سماعت سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل ٹانگ میں گولی لگنے کے باعث شدید زخمی تھے اور عدالت میں پیش نہیں ہو سکے، تاہم ٹرائل کورٹ نے اسی بنیاد پر ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا۔

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جب ٹرائل کورٹ نے خود تسلیم کیا کہ عمران خان زخمی تھے اور دو پیشیوں پر انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا گیا، تو پھر حقِ دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا تھا؟

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند کی جا رہی ہیں اور مقدمہ آخری مراحل میں ہے، جبکہ مدعی شہباز شریف مئی 2025 میں ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ عدالت نے کارروائی پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ 2017 میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف نے انہیں پانامہ پیپرز لیکس کیس میں خاموشی اختیار کرنے کے بدلے 10 ارب روپے کی پیشکش کی۔ شہباز شریف نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے لاہور کی سیشن کورٹ میں 10 ارب روپے کا ہتکِ عزت دعویٰ دائر کیا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US