باجوڑ سے تعلق رکھنے والے قومی سطح کے مارشل آرٹس اور جمناسٹکس کے کھلاڑی رضوان پٹھان کبھی گلے میں تمغے سجائے پوڈیم پر کھڑے نظر آتے تھے، مگر آج وہ اپنے غریب خاندان کی کفالت کے لیے مردان کی ایک ماربل فیکٹری میں طویل اوقات تک محنت مزدوری کر رہے ہیں۔
رضوان پٹھان نے ضلع اور صوبائی سطح پر ایک درجن سے زائد میڈلز اپنے نام کر رکھے ہیں، جبکہ قومی سطح پر بھی گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں۔
شاندار کارکردگی کے باوجود انہیں حکومتی سطح پر کوئی معاونت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے رضوان پٹھان کا کہنا تھا کہ کام کے وقت جب اپنے میڈلز دیکھتا ہوں تو پاکستان پر افسوس ہوتا ہے۔
ماربل فیکٹری میں دن بھر کی مشقت کے باوجود رضوان اپنے خواب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ شدید تھکن کے باوجود وہ رات گئے تک ٹریننگ جاری رکھتے ہیں تاکہ اپنی فارم برقرار رکھ سکیں اور مستقبل میں پاکستان کی نمائندگی کا خواب پورا کر سکیں۔
حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود رضوان پٹھان عزم اور حوصلے کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایک دن بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔