ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان سمیت متعدد اسلامی اور عرب ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکا کے سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کا یہ بیان، جس میں اسرائیل کو عرب ریاستوں کے علاقوں خصوصاً مغربی کنارے پر کنٹرول کا حق دینے کی بات کی گئی، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے کے امن و استحکام کیلیے سنگین خطرہ ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وژن سے بھی متصادم ہے جس کا مقصد غزہ تنازع کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کیلیے آزاد ریاست کا قیام ہے۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے بیانات امن کے بجائے کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔
بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اسرائیل کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں یا کسی بھی عرب سرزمین پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔ انہوں نے مغربی کنارے کے الحاق، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور غزہ کی پٹی کو الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیا۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین کے علاوہ Organization of Islamic Cooperation، League of Arab States اور Gulf Cooperation Council کے نمائندوں نے بھی دستخط کیے۔
اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔