پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار کا جائزہ لینے، اعلیٰ وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشوارے 2026 میں شائع کرنے اور اثاثوں کی خطرات پر مبنی تصدیق کا نظام متعارف کرانے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیب چیئرمین کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے گی اور مجوزہ تبدیلیوں کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کا مقصد تقرری کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستان کا دورہ کرے گا، جس میں 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس دورے کے دوران طرز حکمرانی، بدعنوانی کے خاتمے اور اہم ریگولیٹری اداروں کے سربراہان کی تقرری کے طریقہ کار کا خصوصی جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور نیب جیسے اہم اداروں کے سربراہان کی تقرری کے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا تاکہ میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین، کمشنرز اور پالیسی بورڈ ممبران کی تقرری کے لیے قواعد کو باضابطہ شکل دی جائے گی، جبکہ تقرری کا عمل مدت ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل شروع کیا جائے گا۔ اسی طرح ایس ای سی پی کی سالانہ گورننس اور شفافیت رپورٹ بھی شائع کی جائے گی، جس سے ریگولیٹری استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح کمپیٹیشن ایکٹ 2010 میں ترمیم کی جائے گی تاکہ سی سی پی کے چیئرپرسن کی خودمختار اور شفاف تقرری ممکن بنائی جا سکے۔ سی سی پی کے لیے بھی تقرری کا واضح طریقہ کار اور سالانہ شفافیت رپورٹ جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔
حکام کے مطابق نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے، جن کا مقصد ادارے کی کارکردگی اور عوامی اعتماد کو بہتر بنانا ہے۔ یہ تمام اصلاحاتی اقدامات 27 جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔