اسلام آباد ہائی کورٹ نے زینب زعیم کی درخواست پر وفاقی سیکریٹری دفاع اور داخلہ کو آئندہ سماعت میں طلب کرلیا ہے۔ زینب زعیم نے عدالت سے اپنے غائب شوہر کے کیس میں عدالتی حکم کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے وارننگ دی ہے کہ اگر عدالت کے احکامات پر عمل نہیں ہوا تو دونوں اعلیٰ حکام کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
عدالت نے ریاست کی جانب سے گمشدہ شخص کے بارے میں معلومات نہ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ متاثرہ شخص معذور ہے اور پہلی بار 2013 میں لاپتہ ہوا تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ صرف ایک فرد کے لیے ان کیمرہ بریفنگ کی ضرورت کیوں ہے، اور کہا کہ کیس 2026 تک کھینچ چکا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ کیس جبراً گمشدگی (enforced disappearance) کے زمرے میں آتا ہے، اور اگر فرد دہشت گرد ہے تو ریاست کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ خاندان کو اندھیرے میں رکھا جائے۔
وزارت دفاع کے نمائندے نے دعویٰ کیا کہ یہ فرد کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہے، اور خاندان کو دی جانے والی 5 لاکھ روپے کی رقم ”معاوضہ“ نہیں بلکہ وزیراعظم کی منظوری سے ”مالی معاونت“ تھی۔
نمائندہ وزارت نے کہا کہ ان کیمرہ بریفنگ کیس کے دائرہ کار سے باہر ہے، جس پر جسٹس کیانی نے سوال کیا کہ وزیراعظم کو فیلڈ افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر کیوں طلب نہ کیا جائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ فیڈرل کانسٹیوشنل کورٹ نے ریاست کے موقف کی حمایت نہیں کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت 26 مارچ تک ملتوی کردی۔