پاکستان میں بجلی کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری ہونے کے قریب ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک کی پہلی ڈی ریگولیٹڈ بجلی مارکیٹ مارچ میں فعال ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 200 میگاواٹ بجلی فروخت کے لیے پیش کی جائے گی۔ اس نئی مارکیٹ کے تحت ایک میگاواٹ یا اس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بڑے صارفین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کے سپلائر سے براہ راست بجلی خرید سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ میں بجلی پر عائد کپیسٹی چارجز بھی ختم ہو جائیں گے، جس سے بڑے صارفین کو نسبتاً سستی بجلی ملنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے بجلی کے شعبے میں مقابلے کا رجحان بڑھے گا، کارکردگی بہتر ہوگی اور صارفین کو زیادہ انتخاب کے مواقع میسر آئیں گے، جبکہ یہ پیش رفت آئی ایم ایف پروگرام کی اہم شرط بھی سمجھی جا رہی ہے۔