وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گندم کی فروخت، ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز اور پیٹرولیم ڈویژن کی رپورٹ سمیت اہم امور کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جسے ای سی سی نے منظور کرلیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے منظور شدہ قیمتوں پر فروخت ممکن نہ ہوسکی کیونکہ موصول ہونے والی بولیاں کم تھیں۔ موجودہ ذخائر اور اخراجات کے پیش نظر ای سی سی نے فرسٹ اِن فرسٹ آؤٹ (FIFO) بنیاد پر نئی ریزرو قیمت مقرر کرتے ہوئے مقامی گندم کی قیمت 4,150 روپے فی 40 کلو اور درآمدی گندم کی قیمت 3,800 روپے فی 40 کلو مقرر کی۔
ای سی سی نے سابقہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 53 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ یہ رقم پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو جاری منصوبوں کے لیے منتقل کی جائے گی۔
اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے Cnergyico PK لمیٹڈ کے ساتھ پیٹرولیم لیوی کی تاخیر سے ادائیگی کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی پیش کی گئی، تاہم ای سی سی نے مزید جامع بریفنگ کی ہدایت دیتے ہوئے رپورٹ کو آئندہ اجلاس تک موخر کردیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔