کراچی میں ڈیجیٹل دھوکہ دہی کا ایک نیا اور تشویشناک طریقہ سامنے آیا ہے جہاں سلیکون تھمب استعمال کرکے ایک شہری کے نام پر سم جاری کرائی گئی اور بعد ازاں اس کے بینک اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے اڑا لیے گئے۔ متعلقہ حکام نے شہریوں کو فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے ایک شہری کا موبائل نیٹ ورک اچانک معطل ہوگیا۔ جب معاملے کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ ملزم نے سلیکون تھمب کی مدد سے متاثرہ شخص کے نمبر پر ایک نئی سم حاصل کرلی تھی۔
ملزم نے وہ سم دوسری موبائل ڈیوائس میں فعال کی، پھر متعلقہ بینکنگ ایپ کو بھی ایکٹی ویٹ کرلیا اور اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے منتقل کرگیا۔
ماہرین کے مطابق سلیکون تھمب فراڈ میں کسی شخص کے انگوٹھے کے نشانات کی نقل سلیکون یا کسی نرم مواد کے ذریعے تیار کی جاتی ہے اور اسے بائیومیٹرک تصدیقی نظام کو دھوکا دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی طارق نواز نے تصدیق کی کہ اس واردات میں سلیکون تھمب استعمال ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے جرائم سے بچنے کے لیے شہری اپنی ڈیجیٹل پرائیویسی کا خاص خیال رکھیں۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام موبائل ایپس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر ویریفکیشن لازمی طور پر فعال رکھیں، یعنی موبائل نمبر کے ساتھ ای میل کے ذریعے بھی تصدیقی عمل مکمل کریں۔
طارق نواز نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی رقم سے متعلق آن لائن درخواست موصول ہو تو متعلقہ فرد کو براہِ راست کال کرکے تصدیق کریں۔ غیر مصدقہ آؤٹ لیٹس یا سڑکوں پر قائم عارضی مراکز پر بلا ضرورت بائیومیٹرک تصدیق نہ کروائیں۔
حکام نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ قومی شناختی کارڈ اور دیگر اہم شناختی دستاویزات کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ اگر کوئی شخص اس نوعیت کے فراڈ کا شکار ہوجائے تو فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی سے رجوع کیا جائے۔