قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے پاکستان ریلوے کی 43.11 ایکڑ قبضہ شدہ زمین واگزار کرا دی، جس کی تخمینہ قیمت 9,671 ملین (9.67 ارب) روپے ہے۔ یہ زمین کراچی کے علاقے دیہہ کھانٹو، جمعہ گوٹھ (سروے نمبر 48، 49، 50 اور 51) میں واقع ہے۔
نیب کی اس کارروائی کا آغاز 13 جولائی 2019 کو ہوا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد یہ انکوائری عارضی طور پر معطل کردی گئی تھی۔ پاکستان ریلوے کی درخواست پر تحقیقات 2025 میں دوبارہ شروع کی گئیں، جن میں محکمہ مال اور ریلوے کے ان افسران کے خلاف کارروائی کی گئی جو نجی ٹیکسٹائل ملز کے غیر قانونی قبضے میں ملوث پائے گئے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ زمین پر 2021 میں سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود نجی ٹیکسٹائل ملز کا قبضہ برقرار تھا۔ نیب افسران کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں یہ قبضہ باقاعدہ طور پر پاکستان ریلوے کے حوالے کردیا گیا۔