عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کی ایک سالہ رول اوور میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ رول اوور میں کوئی مسئلہ نہیں اور میڈیا بلاوجہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یو اے ای کے ڈیپازٹس کے حوالے سے تمام معاملات معمول کے مطابق ہیں اور حکومت طویل مدتی رول اوور کے لیے رابطے میں ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن نے کراچی اور اسلام آباد میں قیام کے دوران اسٹیٹ بینک حکام سے ملاقات کی اور ایک سالہ رول اوور نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ امکان ہے کہ آئی ایم ایف وفد یو اے ای کے سفیر سے بھی ملاقات کر کے نئی یقین دہانی حاصل کرے گا۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے ڈیپازٹس واپس نہیں لیے اور طویل المدتی رول اوور پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم ایک سینئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کو تاحال تحریری یقین دہانی موصول نہیں ہوئی جس کے باعث صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔ حکومت نے پہلے دو ماہ کا عارضی رول اوور حاصل کیا تھا اور اب نئی شرائط پر مذاکرات جاری ہیں جسے آئی ایم ایف کے جاری جائزے میں شامل کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق یو اے ای کے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک، ایک ارب ڈالر کے دو ڈیپازٹس 17 اور 23 جنوری کو میچور ہوئے تھے جنہیں پہلے ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا گیا اور بعد ازاں عارضی طور پر 16 اور 23 اپریل تک توسیع دے دی گئی۔ تیسری قسط کی واپسی بھی مقررہ تاریخ کے قریب ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ڈیپازٹس پر پاکستان کو 6.5 فیصد سے زائد سود ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تکنیکی سطح کے مذاکرات میں زرمبادلہ کے ذخائر، مانیٹری پالیسی، شرح تبادلہ کے انتظام، دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام، اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات اور بینکاری ریگولیشنز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تعارفی سیشن میں اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ جنوری میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں 393 ملین ڈالر کا خسارہ تھا۔ تاہم رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.74 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 564 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔