وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں ٹیکس حکام کو بغیر پیشگی اطلاع اور کسی فعال کیس کے بغیر بھی چھاپے مارنے کا اختیار قانونی قرار دے دیا ہے۔
یہ تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس حکام قانون کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر انسپیکشن کر سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ بغیر پہلے سے کیس موجود ہونے کے چھاپے غیر قانونی ہوتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس حکام کو قانون نافذ کرنے کے لیے وسیع اختیارات دیے ہیں اور عدالت قانون میں ایسی شرائط شامل نہیں کر سکتی جو پارلیمنٹ نے خود شامل نہیں کیں۔
فیصلے کے اہم نکات کے مطابق ٹیکس حکام کو چھاپوں کے دوران کمپیوٹرز، دستاویزات اور مالیاتی ریکارڈ قبضے میں لینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ تاہم کمشنر کے لیے لازم ہوگا کہ وہ تحریری طور پر یہ واضح کرے کہ کس مخصوص قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ عدلیہ قانون سازی کے اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ ہی قانون میں اضافی پابندیاں شامل کر سکتی ہے جو مقننہ نے مقرر نہیں کیں۔