وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ رپورٹ تیار کر کے کابینہ کو بھجوا دی ہے۔ یہ رپورٹ اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے قوانین کے تحت تیار کی گئی ہے اور ملک میں کرنسی کے استعمال اور انتظامات کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دس روپے کے نوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے جبکہ دس روپے کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال تک ہے۔ ہر سال چھپنے والے مجموعی نوٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ 10 روپے کے نوٹ پر مشتمل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دس روپے کا سکہ متعارف کرانے سے آئندہ دس سال میں کم از کم 40 سے 50 ارب روپے کی بچت ممکن ہے کیونکہ نوٹ کی چھپائی، تبدیلی اور انتظامی اخراجات کا تخمینہ سالانہ 8 سے 10 ارب روپے ہے جبکہ سکے کی تیاری تو زیادہ مہنگی ہے مگر دہائیوں تک دوبارہ تیار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
10 روپے کا نوٹ پہلی بار 24 اکتوبر 2016 کو جاری کیا گیا تھا۔ نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنا اسٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت قانونی عمل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے کم مالیت نوٹوں کو سکوں میں بدل دیا ہے اور نوٹوں کی چھپائی میں کمی گرین بینکنگ کے اقدامات کا حصہ ہے۔