وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر جسمانی اور ذہنی سزا کے مکمل خاتمے کے لیے اہم قانون میں ترمیم کردی گئی ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں، مدارس، رہائشی مراکز اور دیگر نگہداشت کے مقامات پر بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق Prohibition of Corporal Punishment Act میں نئی ترامیم کے بعد قانون کا اطلاق سرکاری و نجی اسکولوں، مدارس، بورڈنگ ہاؤسز، فوسٹر کیئر سینٹرز، بحالی مراکز اور کام کی جگہوں تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ بچوں کو ہر قسم کے جسمانی اور ذہنی تشدد سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نئے قانون کے تحت بچوں کو ہاتھ، ڈنڈے، بیلٹ، جوتے یا کسی بھی چیز سے مارنا، تھپڑ مارنا، لات مارنا، جھنجھوڑنا، بال یا کان کھینچنا، چٹکی کاٹنا یا دانتوں سے کاٹنا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح بچوں کو تکلیف دہ پوزیشن میں کھڑا کرنا، گرم پانی یا کسی اور طریقے سے جلانا، بجلی کے جھٹکے دینا، یا زبردستی کوئی چیز کھلانا یا منہ صابن سے دھلوانا بھی جرم تصور ہوگا۔
قانون کے مطابق کسی بھی بچے کو دھمکانا، خوفزدہ کرنا یا دباؤ ڈالنا بھی ذہنی تشدد کے زمرے میں آئے گا، جس پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور تعلیمی و نگہداشت کے اداروں میں محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔