پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ نیپرا کی رپورٹ کے برعکس مالی سال 2025 کے دوران پاور سیکٹر میں نمایاں اور تاریخی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کے جاری کردہ بیان کے مطابق سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی نمایاں کمی ہوئی ہے، جس کے بعد یہ 2393 ارب روپے سے کم ہو کر 1614 ارب روپے کی سطح پر آگیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی بہتر کارکردگی کے باعث 193 ارب روپے کا ریلیف حاصل ہوا جبکہ پاور پروڈیوسرز سے ایل پی آئی ویور سے متعلق مذاکرات کے نتیجے میں 260 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق میکرو اکنامک بہتری کے باعث پاور سیکٹر پر 300 ارب روپے سے زائد کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ بجلی کی وصولیوں کی شرح بھی بہتر ہو کر 92.4 فیصد سے بڑھ کر 96.6 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ انڈر ریکوری میں 183 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 315 ارب روپے سے کم ہو کر 132 ارب روپے رہ گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز میں بھی کمی آئی ہے، جو 18.3 فیصد سے کم ہو کر 17.6 فیصد ہوگئے، جس سے 11 ارب روپے کی بچت حاصل ہوئی۔
پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ اے ٹی اینڈ سی بنیادوں پر لوڈشیڈنگ پالیسی پر عمل جاری ہے اور اگر اسے مکمل طور پر ختم کیا گیا تو سالانہ 500 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
بیان کے مطابق ٹرانسفارمر سطح پر ٹارگٹڈ لوڈشیڈنگ کی جانب پیش رفت جاری ہے اور مجموعی طور پر پاور سیکٹر اصلاحات درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔