پاکستان گورننس فورم اجلاس، سندھ کی جی ایس ٹی صوبوں کو منتقل کرنے کی تجویز

image

11ویں قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کے حوالے سے مرکز اور صوبوں کے درمیان جاری مشاورت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں آبادی کے معیار پر نظرثانی پر زیادہ تر صوبوں نے اتفاق کیا ہے جبکہ سندھ نے اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی وصولی صوبوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پاکستان گورننس فورم کے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ سندھ فیاض جتوئی نے بتایا کہ ملک میں اشیا کی مجموعی مالیت تقریباً 640 کھرب روپے ہے اور 18 فیصد جی ایس ٹی سے 160 کھرب روپے محصولات حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو سالانہ صرف 16 کھرب روپے جمع کر پا رہا ہے۔ سندھ کے مطابق صوبے کی صلاحیت کے پیش نظر کم از کم 110 کھرب روپے تک وصولی ممکن ہے۔

اجلاس میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے بتایا کہ خدمات اور زراعت ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 70 فیصد ہیں، لیکن صوبے ان شعبوں سے صرف 0.8 فیصد جی ڈی پی کے برابر ٹیکس وصول کر پا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اجلاس میں افقی تقسیم کے لیے آبادی کے 82 فیصد وزن پر نظرثانی، اور مالیاتی وسائل میں اضافہ کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام آبادی میں اضافے کی ترغیب دیتا ہے اور غربت و پسماندگی کے معیار پر نظر ثانی ضروری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US