وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی صدارت میں 15ویں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی بہتری اور پالیسی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزارتِ صنعت و پیداوار کے سیکریٹری سیف انجم، سی ای او سمیڈا، صوبائی وزارتوں اور بینکاری شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بینکاری شعبے کی جانب سے ایس ایم ای فنانسنگ کے تحت 8 کھرب 82 ارب 40 کروڑ روپے کے قرضے 3 لاکھ 2 ہزار 922 قرضہ دہندگان کو فراہم کیے جاچکے ہیں، جو اس شعبے کی ترقی میں اہم پیش رفت ہے۔
اجلاس میں ایس ایم ایز کی سالانہ سیلز ٹرن اوور کی حد بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی، جس کے مطابق مائیکرو انٹرپرائزز: 30 ملین روپے تک، سمال انٹرپرائزز: 30 سے 400 ملین روپے، میڈیم انٹرپرائزز: 400 سے 2000 ملین روپے تجویز کی گئی ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ قومی ایس ایم ای پالیسی 2021 پر عملدرآمد کے دوسرے اہم نکات میں ایس ایم ای کی تعریف اور دائرہ کار میں نظرثانی شامل ہے، جسے وفاقی اور صوبائی ادارے اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور حکومت شعبے کی ترقی کیلیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
اجلاس میں سمیڈا اور صوبائی حکام کو باقاعدہ فالو اپ اور پیشرفت رپورٹنگ کی ہدایت بھی دی گئی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ایس ایم ایز کیلیے قرضوں تک رسائی بنیادی محرک ہے اور تمام بینک اس سلسلے میں تعاون کیلیے تیار ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں میں ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی اور سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ صنعتی پالیسی میں قرضوں تک آسان رسائی اور ٹیکس ریلیف پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جبکہ اسکل ڈیولپمنٹ بانڈ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹریننگز ایس ایم ایز کیلیے حوصلہ افزا اقدام قرار پائے ہیں۔ سمیڈا کی جانب سے جدید مہارتوں اور اے آئی تربیت کی فراہمی کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔