وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے دشمنوں کو اپنے ملک میں بسانا آپ کا اختیار ہے، لیکن ان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف دشمنی کا کردار ادا نہ کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سراج الدین حقانی اور ان کا خاندان پاکستان کے مہمان رہے ہیں اور دہائیوں تک ان کی میزبانی کی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں دونوں فریق ایک ساتھ کھڑے تھے اور اس وقت دونوں کا ہدف ایک تھا جو امریکا کی پالیسی کے تحت طے پایا تھا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان پر امریکا کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی سہولت کاری کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے سراج الدین حقانی سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ الزام درست تھا یا نہیں، اس بارے میں دنیا کو حقیقت آپ خود بتا دیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں افغان دھڑوں کے درمیان اختلافات ختم کرانے اور مکہ مکرمہ میں صلح کرانے میں کردار ادا کیا، لیکن اس کا صلہ نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمنوں اور قاتلوں کو پناہ دی گئی اور ایسے عناصر کی معاونت کی گئی جنہوں نے ملک کے گلی محلوں کو خون سے رنگین کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کابل میں ملاقات کے دوران بھی درخواست کی گئی کہ پاکستان دشمن عناصر کے حلیف نہ بنیں اور نہ ہی انہیں اعانت فراہم کریں۔ ان کے بقول اگر مالی معاونت درکار تھی تو اس پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی، تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حقانی نام ایک بزرگ نسبت سے منسوب ہے، اس نام کی لاج رکھی جائے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ روایت، ثقافت اور دین یہ سکھاتے ہیں کہ جس گھر میں پناہ لی جائے، اس کی خیر خواہی کی جاتی ہے۔