پاکستان کا ایسا گاؤں جہاں رمضان میں قرآن کے ذکر کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہوتا

image

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی کا گاؤں 'پنج پیر' قرآن کی اشاعت و تبلیغ کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔

قرآنِ مجید کی تلاوت، اسے سمجھ کر پڑھنا اور پھر اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی نسبت سے رمضان المبارک، جس مہینے میں قرآن نازل ہوا، تلاوت، تجوید اور تفسیرِ قرآن کے خصوصی اہتمام کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ مساجد میں تراویح کے ساتھ ساتھ درسِ قرآن کی محافل بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کلامِ الٰہی سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

خیبر پختونخوا کے شہر صوابی کے نواحی گاؤں پنج پیر کو اس حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہاں قائم مدرسہ دارالقرآن میں دورۂ تفسیرِ قرآن کا انعقاد کیا جاتا ہے جو کئی پہلوؤں سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس درسِ تفسیر کا آغاز 1938 میں مولانا محمد طاہر پنج پیری نے کیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے اور جانشین مولانا محمد طیب طائری نے اس سلسلے کو جاری رکھا۔ ان کے مطابق دورۂ تفسیر ہر سال 10 شعبان کو شروع ہوتا ہے اور 27 رمضان کی رات اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اس تفسیر کا بنیادی مقصد پنج پیر اور اس کے گردونواح کے لوگوں تک قرآن کی تعلیمات ان کی مادری زبان میں پہنچانا تھا تاکہ وہ بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور فیض یاب ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درس پشتو زبان میں دیا جاتا ہے۔ اس میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے لوگ بھرپور شرکت کرتے ہیں۔

یہاں آنے والے شرکاء کی بڑی تعداد مسافروں پر مشتمل ہوتی ہے جو پورا عرصہ قرآن کے علم کے حصول میں گزارتے ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں آنے والے مہمانوں کی میزبانی کا بنیادی انتظام مدرسے کی انتظامیہ کرتی ہے، تاہم ایک ماہ تک قیام و طعام کا بندوبست کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے گاؤں کے مقامی افراد بھی اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور مہمانوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے تک کھول دیتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US