کھلی فضا میں سانس لینا یقیناً ایک بڑی نعمت ہے۔ عام زندگی میں انسان نہ صرف آزادی کے ساتھ اپنے جذبات اور خوشیاں بانٹ سکتا ہے بلکہ اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے کسی مخصوص وقت کا پابند بھی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جیل میں قید وہ افراد ہیں جو اپنی سزاؤں کے باعث نہ آزادانہ زندگی گزار سکتے ہیں اور نہ ہی رمضان اور عید جیسے مواقع اپنے پیاروں کے ساتھ منا سکتے ہیں۔
اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ جیل کی چار دیواری کے اندر قیدیوں کے دن اور راتیں خصوصاً رمضان میں کس طرح گزرتی ہوں گی، ان کی سحری اور افطار کا کیا انتظام ہوتا ہوگا اور ان کا روزمرہ معمول کیا ہوتا ہے۔
معروف برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کی ایک ماضی کی رپورٹ کے مطابق سوات جیل کے ایک قیدی گل زرین خان نے بتایا کہ مفتی صاحب دن میں تین مرتبہ درس دیتے ہیں جس سے وقت بہتر انداز میں گزر جاتا ہے۔
انہوں نے جیل کے معمولات بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قیدی رات تین بجے بیدار ہوتے، تہجد ادا کرنے کے بعد سحری کرتے اور پھر اپنے روزمرہ امور میں مصروف ہو جاتے۔ دوپہر دو بجے لنگر سے کھانا آتا ہے جو اُن قیدیوں کو دیا جاتا ہے جو روزہ نہیں رکھ سکتے، جبکہ باقی کھانا افطار کے لیے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ نمازوں کی ادائیگی معمول کا حصہ ہے اور عصر کے بعد قیدیوں میں شربت، چائے، سبزی اور روٹی تقسیم کی جاتی ہے۔
ایک اور قیدی نے بتایا کہ انہوں نے جیل کے اندر ہی ایک مدرسہ قائم کر رکھا ہے جہاں صبح آٹھ بجے مولوی صاحب درس دیتے ہیں۔ جس طرح جیل سے باہر مساجد میں تفسیر قرآن کی نشستیں ہوتی ہیں، اسی طرح جیل کے اندر بھی تفسیر کا اہتمام کیا جاتا ہے اور قیدی باقاعدگی سے اس میں شرکت کرتے ہیں۔
عشاء کی نماز کے حوالے سے ایک قیدی کا کہنا تھا کہ تمام قیدی باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ افطار کے وقت وہ جیل کی دکان سے کچھ اشیاء خرید لیتے ہیں اور انہیں جیل کے فراہم کردہ کھانے کے ساتھ ملا کر افطار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جیل میں بڑے چھوٹے کا خیال رکھا جاتا ہے اور رمضان کو حتی الامکان اچھے انداز میں گزارنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم گھر والوں کی یاد ہر کسی کو ستاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کا ماحول چاہے کتنا ہی بہتر بنا لیا جائے، وہ گھر جیسا نہیں ہو سکتا۔