رواں سال سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 11 فیصد اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک

image

سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کے محصولات میں رواں مالی سال کے دوران 11 فیصد اضافہ ہوا ہے جولائی 2025 تا جنوری 2026 کے دوران 7 ماہ کے عرصہ میں ترسیلات زر کی وصولیاں 23.2 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں۔

اسٹیٹ بینک کے تخمینہ کے مطابق جاری مالی سال میں ترسیلات زر کے محصولات کا مجموعی حجم 41.2 ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں جولائی 2025 تا جنوری 2026 کے دوران خلیجی ممالک سے بھیجی گئی ترسیلات زر کا حجم 10.88 ارب ڈالر رہا ہے۔

اس طرح دوران مالی سال میں سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے بھیجی جانے والی مجموعی رقوم میں خلیجی ممالک کا حصہ 46.9 فیصد رہا ہے جبکہ سعودی عرب سے ترسیلات زر کی وصولی 3.89 ارب ڈالر یعنی 16.8 فیصد جبکہ متحدہ عرب امارات سے 4.78 ارب ڈالر یعنی 20.6 فیصد ترسیلات زر محصولات ہوئے ہیں۔

خلیجی ممالک سے بھیجی گئی رقوم میں قطر، کویت اور بحرین کا حصہ 9.5 فیصد رہا ہے اور ان ممالک سے مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکائونٹس آف پاکستان(آئی سی ایم اے پی) کے شعبہ ریسرچ اینڈ پبلیکیشن کے سینئر ڈائریکٹر شاہد انور نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ایران ، امریکا تنازعہ کے باعث پیدا ہونے والی خلیجی ممالک کی حالیہ صورتحال کی وجہ سے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں 10 تا 15 فیصد کی کمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خلیج کی حالیہ صورتحال زیادہ عرصہ تک برقرار رہتی ہے تو ترسیلات زر محصولات میں ممکنہ طور پر 3 ارب ڈالر کی کمی کا خدشہ ہے جس سے پاکستان کے حسابات جاریہ پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US