وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خان نے چینی منسٹر کاؤنسلر سے ملاقات کی جس میں پاک چین دوطرفہ تجارتی تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور باہمی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران موجودہ تجارتی صورتحال اور برآمدات میں اضافے کو متاثر کرنے والے عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے چین کو برآمدات بڑھانے کی ترجیحات پر بات چیت کی گئی، جبکہ باہمی تجارتی مفادات کو بھی مدِنظر رکھا گیا۔
اہم شعبوں میں زرعی مصنوعات، چاول اور سی فوڈ شامل رہے۔ پاکستانی چاول کی چین کو برآمدات بڑھانے کے انتظامات پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ تانبا اور دیگر معدنیات کے شعبے میں مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا اور کاروباری سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں Trade Development Authority of Pakistan (TDAP) کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستانی برآمدکنندگان اور چینی خریداروں کے درمیان مؤثر رابطوں کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔
رانا احسان افضل خان نے حال ہی میں تشکیل دی گئی جیمز اینڈ جیولری پالیسی پر بھی روشنی ڈالی اور ویلیو ایڈڈ شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے China-Pakistan Free Trade Agreement (CPFTA) 3.0 مذاکرات، آفر اور ریکویسٹ لسٹس پر بھی گفتگو کی اور بات چیت کو متوازن اور باہمی طور پر مفید انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے سے ہم آہنگی اور علاقائی روابط کے امور، بشمول پاک افغان سرحد کی عارضی بندش، بھی زیرِ بحث آئے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ دوطرفہ تجارت اور تعاون کے فروغ کے لیے مسلسل رابطے اور مکالمہ ناگزیر ہیں۔