وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فی الحال وافر مقدار موجود ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کے لیے 28 دن کا کور دستیاب ہے جبکہ خام تیل کے ذخائر مزید 10 دنوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی راشننگ کی کوئی ضرورت نہیں اور عوام بلا خوف و خدشہ معمول کے مطابق اپنی ضروریات پوری کریں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ توانائی کے شعبے میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ ملک میں معاشی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
حکومتِ پاکستان کے تحت قائم پیٹرول قیمتوں کی نگرانی کمیٹی نے ملک میں توانائی کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش ہیں، تاہم بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر نگرانی اور ہنگامی منصوبہ بندی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر میں خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات بشمول پیٹرول، ڈیزل، ہوابازی ایندھن اور ایل پی جی کے ذخائر، یومیہ کھپت اور دستیابی کے دنوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
شرکاء کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس اخراجات، شپنگ روٹس اور اہم سمندری گزرگاہوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ عالمی توانائی کی صورتحال غیر یقینی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث عالمی توانائی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمدات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ طویل مدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کی درآمد جاری ہے، تاہم علاقائی شپنگ روٹس میں رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ سرحدی راستوں سے آنے والی ایل پی جی کی نگرانی بھی سخت کردی گئی ہے تاکہ مقامی سطح پر قلت پیدا نہ ہو۔
کمیٹی نے توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متبادل ذرائع سے درآمدات، دوست ممالک سے رابطوں اور علاقائی توانائی مراکز خصوصاً بحیرہ احمر اور خلیجی بندرگاہوں کے ذریعے سپلائی کے امکانات پر غور کیا۔ ساتھ ہی توانائی کے مؤثر استعمال اور بچت کے اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرنے کی بھی تاکید کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی کا آئندہ اجلاس کل ہوگا جس میں تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز شرکت کریں گے اور قومی ایکشن پلان کو حتمی شکل دی جائے گی۔