خطے میں کشیدگی، بڑھتے اخراجات، ملکی برآمدات کے لیے خطرہ

image

خطے میں کشیدگی اور بڑھتے اخراجات پاکستان کی برآمدات کے لیے خطرہ بننے لگے ہیں۔

حکام کے مطابق خلیجی ممالک میں عدم استحکام اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق فروری 2026 میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 6.34 فیصد کم ہو کر 1.33 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 1.42 ارب ڈالر تھیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو اس سے تجارت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور برآمدات، ترسیلات زر اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان کو ماہانہ تقریباً 3 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔

ٹیکسٹائل کے علاوہ چاول، سرجیکل آلات، طبی سامان، گوشت، لیدر مصنوعات، کھیلوں کا سامان اور پھل و سبزیاں بھی متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہیں۔ خطے میں جاری عدم استحکام کے باعث شپنگ اور فریٹ کے اخراجات میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران پاکستانی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 7.3 فیصد کمی کے بعد 22.07 ارب ڈالر سے کم ہو کر 20.46 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ درآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہو کر 45.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US