ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثہ جاتی گوشواروں تک عوامی رسائی محدود کرنے کی مجوزہ کوشش نے شفافیت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں منتخب نمائندوں کے احتساب کو کمزور کر سکتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں الیکشن (ترمیمی) بل 2026ء پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات تک عوامی رسائی کو محدود کرنا ہے۔
ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے صدرِ مملکت، وفاقی حکومت اور قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تجویز کو واپس لیا جائے کیونکہ اس سے وہ چند اہم طریقۂ کار متاثر ہوں گے جن کے ذریعے شہری عوامی عہدوں پر فائز افراد کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق موجودہ قانون کی دفعات 137 اور 138 کے تحت عوام کو ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں اور واجبات کا جائزہ لینے کی اجازت ہے، جو قانون سازی کے عمل میں شفافیت اور سیاسی دیانت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے نشاندہی کی کہ مجوزہ ترمیم پاکستان میں حکمرانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی حالیہ اصلاحات سے بھی متصادم ہو سکتی ہے۔ تنظیم کے مطابق آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائگنوسٹک رپورٹ میں بھی حکام کو عوامی عہدوں پر فائز افراد کے احتساب اور شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حال ہی میں سول سرونٹس (ترمیمی) بل 2025ء کے تحت گریڈ 17 سے 22 تک کے سرکاری افسران کو اپنے ملکی و غیر ملکی اثاثے، حتیٰ کہ قریبی اہل خانہ کے اثاثے بھی ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر ارکانِ پارلیمنٹ کے گوشواروں تک رسائی محدود کر دی گئی تو ایسی صورتحال پیدا ہو جائے گی جس میں سرکاری ملازمین پر شفافیت کے تقاضے منتخب قانون سازوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوں گے۔
ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں درجہ بندی بھی متاثر ہو سکتی ہے اور یہ اقوام متحدہ کے انسدادِ بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کے وعدوں کے بھی برعکس ہوگا۔
تنظیم نے پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مجوزہ ترمیم کو روک کر ایسا مضبوط قانونی نظام برقرار رکھے جو ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثہ جاتی گوشواروں تک عوامی رسائی کو یقینی بنائے۔