پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری انوینٹری گین حاصل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر پیٹرولیم ڈیلرز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما طارق حسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کوٹہ سسٹم کے تحت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی تقریباً 50 فیصد تک کم کر دی تھی جس کے باعث قیمتوں میں اضافے کے بعد انہیں بڑا مالی فائدہ حاصل ہوا۔
طارق حسن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافے کے باعث پیٹرول پمپ مالکان پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔ اب ہر پیٹرول پمپ کو پیٹرول اور ڈیزل خریدنے کے لیے تقریباً 2 کروڑ روپے اضافی درکار ہوں گے جس سے چھوٹے ڈیلرز کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا فوری آڈٹ اور تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ سپلائی کم کر کے کس نے کتنا منافع کمایا۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنے مارجن میں اضافہ کر لیا ہے مگر ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ نہیں کیا گیا، جس سے کاروباری مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
طارق حسن نے مزید کہا کہ سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث پیٹرول پمپس کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں ایک پیٹرول پمپ پر جھگڑے کے دوران ایک ملازم کے قتل کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے سپلائی کے مسائل اور ڈیلرز کو درپیش مالی مشکلات کو حل کرے۔