معروف پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے سوشل میڈیا شخصیت مہرب معیز اعوان کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی وارننگ دے دی ہے۔
ماریہ بی پاکستان کی معروف ڈیزائنر اور کاروباری خاتون ہیں جو اکثر ایل جی بی ٹی کیو اور صہیونیت کے خلاف اپنے مؤقف کے باعث خبروں کی شہ سرخیوں میں نظر آتی ہیں۔ دوسری جانب مہرب معیز اعوان ایک معروف ٹرانس جینڈر ہیں جو ماضی میں بھی ماریہ بی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
حال ہی میں سوشل میڈیا انفلوئنسر مہرُب معیز اعوان نے الزام عائد کیا تھا کہ ماریہ بی کے شوہر مبینہ طور پر ڈیٹنگ ایپ بمبل پر انہیں پیغامات بھیج کر ملاقات کی پیشکش کرتے رہے۔ اس الزام کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ماریہ بی نے سخت الفاظ میں کہا کہ سوشل میڈیا پر جعلی ایڈیٹس اور جھوٹی معلومات پھیلانا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہرب معیز اعوان ماضی میں بھی اپنے بارے میں غلط بیانی کر چکے ہیں اور ایسے شخص سے کسی بھی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے۔
ماریہ بی کا کہنا تھا کہ پہلے یہ معاملہ صرف ان دونوں کے درمیان تھا، تاہم اب ان کے خاندان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف مہرب معیز اعوان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی بلکہ ان میڈیا اداروں کے خلاف بھی مقدمہ دائر کریں گی جنہوں نے خبر کی تصدیق کیے بغیر اسے شائع کیا۔
سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین ماریہ بی کی حمایت کرتے ہوئے ایل جی بی ٹی کیو ایجنڈے کے خلاف آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بعض صارفین نے ماضی کے پوڈکاسٹس کا حوالہ بھی دیا جن میں مہرب معیز اعوان مردوں کے ساتھ ڈیٹنگ کو بطور بائیولوجیکل مرد بیان کرتے نظر آئے تھے۔