مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری جنگ کے اثرات عالمی منڈی پر بھی پڑنے لگے ہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 114.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 27 فیصد اضافے کے ساتھ 115.11 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ کا سلسلہ طویل ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے جس کے عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر مزید اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔