چیک کیش نہ ہونے پر پولیس سے رجوع کرنے والا نوجوان موٹر سائیکل بھی گنوا بیٹھا، لانڈھی تھانے کے اندر سے موٹر سائیکل چوری کی واردات نے پولیس کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے۔
مرزا عثمان بیگ نامی متاثرہ نوجوان نے آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہمی کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کاروباری شخص ہے اور کلائنٹ کی جانب سے دیا گیا چیک کیش نہ ہونے کے سبب انھوں نے لانڈھی تھانے میں درخواست جمع کرائی تھی، 6 مارچ کو ایس آئی ندیم نے اسے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا۔
نوجوان کے مطابق وہ اپنی موٹر سائیکل یونائیٹڈ 125 رجسٹریشن نمبر KLQ - 8338 پر 7 بجکر 50 منٹ پر تھانے پہنچا اور موٹر سائیکل لاک کرکے بیان دینے انکوائری افسر کے کمرے میں گیا بعدازاں 9 بج کر 50 منٹ پر وہ بیان دے کر آیا تو تھانے سے اس کی موٹر سائیکل غائب تھی جبکہ اس کا ہیلمٹ وہیں پڑا تھا۔
متاثرہ نوجوان نے فوری طور پر 15 پر اطلاع دی جبکہ لانڈھی پولیس نے روزنامچہ میں انٹری کرکے نوجوان کو چلتا کردیا۔
متاثرہ نوجوان کا ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ واردات کے بعد جب سی سی ٹی وی چیک کی گئی تو اندھیرے کی وجہ سے اس میں بھی ملزمان واضح نہیں ہورہے۔
تھانے کے اندر سے لاک شدہ موٹرسائیکل چوری کی واردات پر عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ شہر بھر میں ڈکیتی، لوٹ مار کی وارداتیں روکنے میں پولیس پہلے ہی ناکام تھی اب ڈاکو اور چور اس قدر دیدہ دلیر ہوچکے ہیں کہ وہ تھانوں کے اندر داخل ہوکر وارداتیں کر رہے ہیں۔
تاہم لانڈھی کے تھانیدار کا کہنا تھا کہ مدعی رابطہ کرے گا تو مقدمہ بھی درج کردیا جائے گا۔