ویلنشیا ٹاؤن میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے کیس میں پولیس نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کے مطابق مقتول بچوں کی والدہ ہی اس کیس کی مرکزی ملزمہ نکلی ہے، جبکہ مزید دو افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی خاتون ذہنی مسائل کا شکار تھی اور مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر خودکشی اور موت کے طریقوں سے متعلق معلومات تلاش کرتی رہتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والی دکان کا مالک اور ایک رائیڈر شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون نے آن لائن رابطے کے ذریعے زہریلا کیمیکل حاصل کیا اور اس کی خریداری کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے ادا کیے۔ پولیس کے مطابق خاتون نے کیمیکل والا پارسل اپنی ایک دوست کے گھر منگوایا تھا۔
ڈی آئی جی ذیشان رضا کے مطابق امریکی خاتون اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ امریکا سے لاہور آئی تھی اور ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ 16 جولائی کو خاتون نے اپنی دوست کے ساتھ ایک پیزا شاپ پر کھانا کھایا، جس کے بعد مبینہ طور پر کیمیکل پر مشتمل پارسل وصول کیا۔
پولیس کے مطابق 17 جولائی کو خاتون نے اپنے تینوں بچوں کو مبینہ طور پر ایسی آئس کریم کھلائی جس میں زہریلا کیمیکل شامل تھا، جبکہ بعد ازاں خود بھی وہی زہریلا مادہ استعمال کیا۔ جاں بحق بچوں میں 15 سالہ ریحان، 11 سالہ اریشا اور 9 سالہ ارسل شامل ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ خاتون کے شوہر ناصر کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا گیا، جبکہ کیس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس سے متعلق مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔