وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت میں استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت گروپ لیڈر سہیل الطاف اور صدر عثمان شوکت کر رہے تھے۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، کاروباری برادری کے مسائل اور آر سی سی آئی کے حالیہ دورہ امریکا کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ عرصے میں معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے جس سے سرمایہ کاروں اور عالمی شراکت داروں کا اعتماد بحال ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اگلا مرحلہ اس استحکام کو سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور کاروباری سہولتوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
ٹیکس نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت بڑھانے اور کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت کے لیے پرعزم ہے تاکہ ٹیکس پالیسی معیشت کی ضروریات کے مطابق ہو۔
وزیر خزانہ نے عالمی تیل اور توانائی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایندھن کے ذخائر، سپلائی چین اور مارکیٹ کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت نے بتایا کہ وفد نے حال ہی میں امریکا کے دورے کے دوران واشنگٹن اور نیویارک میں امریکی قانون سازوں، کاروباری اداروں اور اقتصادی تنظیموں سے 14 ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں فارماسیوٹیکل، آئی ٹی، معدنیات، اسٹیل، تعمیرات اور آٹو موبائل سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات میں وفد کے دیگر ارکان نے بھی کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے، برآمدات بڑھانے اور کاروباری رکاوٹیں کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور معاشی اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیرِ خزانہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خطے میں ابھرتی صورتحال کے تناظر میں توانائی کے شعبے میں پیش رفت اور قومی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی موجودہ صورتحال، درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں اور سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے جبکہ آئندہ ہفتوں کے لیے مزید کارگو بھی منگوائے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں عالمی منڈی میں خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، تاہم حکومت قیمتوں اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
اجلاس میں خام تیل کی درآمدات، ریفائنری آپریشنز اور سمندری نقل و حمل کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ متعلقہ حکام نے سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر توانائی کے مؤثر استعمال اور ایندھن کی بچت کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں تاکہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے دوران درآمدی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
اجلاس میں ہوا بازی اور لاجسٹکس شعبوں کی جانب سے اٹھائے گئے بعض آپریشنل مسائل کا بھی نوٹس لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ کاری کے نظام کا بھی جائزہ لیا تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی مؤثر نگرانی کی جا سکے اور سپلائی میں کسی ممکنہ رکاوٹ کو روکا جا سکے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں سپلائی کی صورتحال مستحکم اور بہتر انداز میں منظم ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر بحری امور جاوید انور چوہدری اور وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔