وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ کراچی پورٹ پر برسوں سے پڑے ہزاروں نیلام شدہ کنٹینرز پر ڈیمرج چارجز مکمل طور پر معاف کر دیے گئے ہیں، بشرطیکہ یہ کنٹینرز سات دن کے اندر کلیئر کیے جائیں۔
وزیر بحری امور کے مطابق یہ فیصلہ پورٹ کے نجی ٹرمینلز کے تعاون سے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد بندرگاہ پر رش کم کرنا اور کارگو ہینڈلنگ کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے کنٹینرز کی کلیئرنس سے ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے جگہ بنے گی اور بندرگاہ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
ترجمان کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ اور نجی ٹرمینلز کی جانب سے نیلامی کے قابل کنٹینرز پر 100 فیصد ڈیمرج معاف کیے گئے ہیں اور یہ اقدام تعمیری مشاورت اور باہمی تعاون پر مبنی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کسٹمز کو طویل عرصے سے زیرِ التوا کنٹینرز کی کلیئرنس میں مدد ملے گی اور تجارتی و لاجسٹکس کے شعبے کو خاطر خواہ سہولت فراہم ہوگی۔ اس کے علاوہ نیلام شدہ کنٹینرز کی تیز رفتار کلیئرنس سے بندرگاہ پر جمع شدہ کنٹینرز کے باعث پیدا ہونے والا رش بھی کم ہو جائے گا۔
فیصلے کا مقصد کراچی پورٹ کے ذریعے بڑھتے ہوئے ٹرانس شپمنٹ کارگو کو مؤثر طریقے سے سنبھالنا اور پورٹ آپریشنز کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔