تیل کی قلت کی خبریں بے بنیاد، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا خاطر خواہ اسٹاک

image

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ سرکاری آئل کمپنی پی ایس او کی جانب سے اہم اداروں کو بھیجی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف سرکاری ملکیت میں ہی پیٹرول اور ڈیزل کا 20 دن سے زائد کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ اس کے علاوہ نجی آئل کمپنیوں کے پاس بھی الگ سے اسٹاک دستیاب ہے۔

پی ایس او کے مطابق ملک میں ڈیزل کی تقریباً 80 فیصد ضرورت مقامی ریفائنریز کی پیداوار سے پوری کی جاتی ہے جس سے سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ کے لیے عمان سے پیٹرول کے دو کارگو خریدے جا چکے ہیں جو شیڈول کے مطابق پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ حکومتی معاونت سے سعودی عرب آرامکو سے بھی پیٹرول کا ایک کارگو حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اپریل کے پہلے ہفتے کے لیے پیٹرول کا ایک اور جہاز بھی خریدا جا چکا ہے۔

پی ایس او کے مطابق 10 مارچ کو کھولے گئے ٹینڈر کے تحت 25 اپریل تک پیٹرول کا دوسرا کارگو بھی مل جائے گا جبکہ مختلف ٹینڈرز پر بولیاں 13 مارچ تک مؤثر رہیں گی۔ اپریل کے لیے پیٹرول کا ایک اور ٹینڈر 16 مارچ کو کھولا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طلب اور رسد کے مطابق آئندہ آنے والے کارگوز کی تعداد کا فیصلہ کیا جائے گا جبکہ زرعی سیزن اور اسٹریٹجک ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل آپشنز بھی اختیار کیے جا رہے ہیں۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو تیار پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد اور مقامی ریفائنریز کی پیداوار دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث کویت پیٹرولیم کے دو تیار کارگوز بھی پاکستان نہیں پہنچ سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US