فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے غیر منصفانہ اور غیر شفاف وار رسک سرچارج کا نوٹس لے لیا۔
ایف بی آر نے 2 سرکلر جاری کرتے ہوئے شپنگ لائنز، کیریئرز اور ایجنٹس کو تنبیہ کردی۔
ایف بی آر کسٹم سرکلر کے مطابق بزنس کمیونٹی و دیگر اسٹیک ہولڈرز سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ وار رسک سرچارج اور ذیلی چارجز لاجسٹک چین کی لاگت میں اصافہ کرتے ہیں۔
ایف بی آر کی شپنگ لائنز ،کیریئرز اور ایجنٹس کو ہدایت کی ہے کہ غیر شفاف اور موقع پرست قیمتوں کے تعین سے پرہیز کیا جائے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری سے پہلے بک ہونے والے کارگو پر وار رسک سرچارج عائد کرنا کی اجازت نہیں ہوگی۔ 28 فروری سے پہلے روانہ اور ٹرانزٹ میں ہونے والے کارگو پر بھی جنگی سرچارج نہیں لگ سکتا۔
تاجر برادری اس حوالے شپنگ لائنز، کیریئرز اور شپنگ ایجنٹس کے خلاف ایف بی آر کو درخواست دے سکتے ہیں۔ ایف بی آر لاجسٹک چین کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تعاون کی توقع رکھتا ہے۔
ضرورت سے زائد چارجز کو جنگی صورتحال میں موقع کا فائدہ اٹھانے کےتناظر میں دیکھا جارہا ہے۔