ایندھن کے وافر ذخائر موجود، گھبراہٹ میں ذخیرہ اندوزی کی ضرورت نہیں، وزارت خزانہ

image

حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں اور فی الحال گھبراہٹ میں خریداری یا ذخیرہ اندوزی کی کوئی ضرورت نہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری، گورنر اسٹیٹ بینک سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملک بھر میں خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مارچ کے مہینے کے لیے ایندھن کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں جبکہ موجودہ درآمدی منصوبہ بندی کے مطابق ذخائر اپریل کے وسط تک دستیاب ہیں اور انہیں اپریل کے آخر تک بڑھانے کی کوشش جاری ہے۔

اجلاس میں علاقائی صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور بحری ترسیل کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ قومی توانائی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے درآمدی ذرائع کو مزید متنوع بنایا جائے تاکہ کسی ایک راستے یا سپلائی لائن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ذخائر اور سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے اور عوام کو غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کرنا چاہیے۔

اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ اوگرا اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ذخائر اور مارکیٹ کی صورتحال کی کڑی نگرانی کی جائے اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پیٹرولیم ذخائر، درآمدی صورتحال اور مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے گا تاکہ ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US