مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستانی معیشت اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خطرہ

image

پاکستانی معیشت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ جنگ اور غیر مستحکم حالات کے باعث ترسیلات زر میں سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کمی واقع ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 لاکھ پاکستانی مشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں اور ہر سال 7 سے 8 لاکھ پاکستانی نئے روزگار کے لیے خلیجی ممالک جاتے ہیں۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو 2026 میں 5 لاکھ پاکستانی بیرون ملک روزگار کے لیے نہ جا سکیں گے اور مزید 5 لاکھ پاکستانیوں کے واپسی کا خدشہ ہے۔

ترسیلات زر پاکستانی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد کے قریب ہے، جس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

اس تناظر میں ماہرین نے حکومت اور مالیاتی اداروں سے ہنگامی منصوبہ بندی اور معاشی تحفظ کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بحران کے اثرات کم سے کم ہوں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US