پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک سال کی بلند ترین سطح پر سرپلس ہوگیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق فروری کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 42 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مسلسل دوسرے ماہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے اس سے قبل جنوری میں بھی 6 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اگرچہ ماہانہ بنیاد پر کرنٹ اکاؤنٹ بہتر رہا، تاہم سالانہ بنیاد پر صورتحال مختلف ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 48 کروڑ ڈالر کا سرپلس تھا۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں اضافے نے کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی کے باعث سالانہ بنیاد پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا شکار رہا۔