پاکستان نے پہلی بار بندرگاہوں سے باہر " آف ڈاک " کارگو رکھنے کی اجازت دے دی۔
کراچی میں کسٹم لائسنس یافتہ سینکٹروں آف ڈاک ٹرمینلز کو پہلے ٹرانسشپمنٹ کارگو رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔
پاکستان کو ٹرانسشپمنٹ حب بنانے کیلیے کیے گئے اہم فیصلے قانون بن گئے، ایف بی آر نے ٹرانسشپمنٹ رولز میں اہم ترامیم کا ایس آر او جاری کردیا۔
ٹرانس شپمنٹ رولز میں سی پورٹس کے ساتھ اب ایئرپورٹس کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اب ایئرلائن کا کارگو سی پورٹس اور سی پورٹس کا کارگو ایئرپورٹس کے ذریعے بھی ترسیل ہوسکے گا۔
فیصلے سے بندرگاہوں پر کنٹینرز کا رش ختم ہوگا، کارگو ہینڈلنگ بڑھے گی۔ ٹرانس شپمنٹ کے جہاز آنے اور کارگو ہینڈلنگ سے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
ایس آر او کے مطابق بندرگاہ سے باہر لائسنس یافتہ آف ڈاک ٹرمینلز پر کنٹینرز پارک ہوں گے۔ پورٹس اور ایئرپورٹس پر آنے والا تمام کارگو اسکیننگ سے گزارا جائے گا۔ ڈیکلریشن سے ہٹ کر اور کسی بھی خلاف ورزی پر کارگو کی فزیکل جانچ پڑتال ہوگی۔
مس ڈیکلریشن،چوری اور تضاد کی صورت میں شپنگ لائنز ذمے دار ہوں گی۔ ٹرانس شپنٹ کارگو کی آمد کے علاؤہ روانگی کے وقت بھی اسکیننگ کی جائے گی۔ تنازعہ کی صورت میں شپنگ لائنز ،شپ ایجنٹس کے خلاف کارروائی کا کسٹم کو اختیار ہوگا۔ مس ڈیکلریشن اور قوانین کی خلاف ورزی پر کسٹم ڈیوٹی و ٹیکسز شپنگ لائنز کو ادا کرنا ہوں گے۔