دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں متعدد ممالک نے خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ عوام پر منتقل کردیا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان نے اس صورتحال میں محتاط اور متوازن حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کا مقصد ایک طرف مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا اور دوسری جانب عوام پر بوجھ کو کم سے کم رکھنا ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں 27 فیصد سے 71 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں یہ اضافہ تقریباً 22 سے 24 فیصد کے درمیان رکھا گیا ہے، جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی شرح بھی تقریباً 25 فیصد ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے اوسط 35 فیصد سے کم ہے۔ حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے پیٹرول پر سیلز ٹیکس کو صفر فیصد برقرار رکھا ہے، جو موجودہ حالات میں ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی حکومت کی جانب سے عوامی مفاد اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔