پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں کی ایک بڑی وجہ مقامی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں تاخیر اور عدم پیش رفت ہے، جس کے باعث ملک اب بھی درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ یہ انکشاف حکومتی ذرائع اور سرکاری دستاویزات میں سامنے آیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق اوگرا کے تحت مقامی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے منصوبے تاحال عملی شکل اختیار نہیں کرسکے، جس کے باعث پاکستان مہنگی درآمدی پیٹرولیم مصنوعات خریدنے پر مجبور ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی موجودہ ریفائنریز اسٹینڈرڈ خام تیل کو مؤثر انداز میں پراسیس کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتیں۔ منصوبے کے تحت ریفائنریز کو 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا تھی، جس کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر اضافی ڈیوٹیز کی مد میں فنڈز اکٹھے کیے گئے۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق اس مقصد کے لیے مشترکہ ایسکرو اکاؤنٹ بھی قائم کیا جا چکا ہے، تاہم اب تک اس رقم سے کسی قسم کی عملی سرمایہ کاری یا ترقیاتی کام شروع نہیں ہو سکا۔
وزارتِ پیٹرولیم کی دستاویزات کے مطابق پاکستان اس وقت 70 فیصد پیٹرول، 30 فیصد ڈیزل درآمد کر رہا ہے، جبکہ صرف 25 فیصد خام تیل بیرونِ ملک سے منگوایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مقامی ریفائنریز اپ گریڈ ہو جاتیں تو پاکستان درآمدی تیار شدہ مصنوعات پر انحصار کم کر سکتا تھا، جس سے عوام کو نسبتاً سستا ایندھن فراہم کرنا ممکن ہوتا۔
دستاویزات میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر سے بڑھ کر 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں تاخیر اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ نے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔