وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات (CCoSOEs) کا اجلاس فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری اداروں کے بورڈز، تقرریوں اور انتظامی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سیکریٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ریلوے ڈویژن کی جانب سے تھر کول ریل کنیکٹیویٹی پراجیکٹ کے لیے قائم اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چار آزاد اور تین ایکس آفیشیو اراکین کی تقرری کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبہ حکومتِ سندھ کے اشتراک سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے فنانس ڈویژن کی جانب سے سرمایہ پاکستان لمیٹڈ (SPL) کو ختم کرنے کی سمری بھی منظور کر لی۔ حکام کے مطابق سرکاری اداروں کے لیے نئے گورننس فریم ورک کے بعد یہ کمپنی غیر ضروری ہو چکی تھی۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL)، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) اور بعض دیگر توانائی شعبے کے سرکاری اداروں کو IFRS-14 اور IFRS-9 سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر مزید غور کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے لا ڈویژن، ایس ای سی پی، پیٹرولیم ڈویژن اور نجکاری ڈویژن پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو معاملے کا دوبارہ جائزہ لے گی۔
اجلاس میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری سے متعلق معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔
اسی طرح پاور ڈویژن کی سمری پر حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (HESCO) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (SEPCO) کے بورڈز کی تشکیلِ نو کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے کامرس ڈویژن کی جانب سے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے بورڈ میں ایک آزاد ڈائریکٹر کی خالی نشست پر تقرری کی بھی منظوری دے دی۔
اجلاس کے اختتام پر کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) بورڈ میں خالی نشست پر یوسف خان کو رکن/ٹرسٹی تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلے سرکاری اداروں میں شفافیت، بہتر گورننس اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔