فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے جی ایس پی پلس اسکیم کو ملکی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں و دیگر نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران 108 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2023 میں جی ایس پی اسٹیٹس کی توسیع پاکستان کی جانب سے عالمی قوانین کی پاسداری کا ثبوت ہے۔
ثاقب فیاض نے کہا کہ حکومتی ادارے اور کاروباری برادری یورپی یونین کے ساتھ مکمل آن بورڈ ہیں اور پاکستان نے انسانی حقوق اور لیبر قوانین سمیت 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہم نے معرکہ حق جیتا، اب ہمیں معرکہ معیشت جیتنا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے مطابق جی ایس پی پلس کی بدولت یورپی یونین پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی عالمی مارکیٹ بن گئی ہے اور ٹیکسٹائل، لیدر اور سرجیکل مصنوعات کی ڈیوٹی فری رسائی سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا ہے۔ اس اسکیم سے ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔
پاک یورپی تجارت 2013 میں 6.9 ارب یورو سے بڑھ کر 12.2 ارب یورو سے تجاوز کر گئی۔ ایف پی سی سی آئی نے برآمدی حجم مزید بڑھانے کے لیے صنعتی لاگت میں کمی، شرح سود اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔