پاکستان میں شرح سود کے سنگل ڈیجٹ میں آنے کے امکانات فی الحال معدوم ہو چکے ہیں، مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی ریٹ کا مستقبل اب عالمی حالات، خصوصاً جنگی صورتحال اور تیل کی قیمتوں پر منحصر ہو گیا ہے۔
مالیاتی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ مانیٹری پالیسی میں کیا فیصلہ کرے گا۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے رواں ماہ شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق دس رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا یہ فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔ کمیٹی کے دو ارکان نے شرح سود میں 0.5 فیصد اضافے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ آٹھ اراکین نے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی حمایت کی۔
ذرائع کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آئندہ اہم اجلاس 27 اپریل کو شیڈول ہے تاہم مالیاتی حلقوں میں قبل از وقت اجلاس بلائے جانے کی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔