خطے میں کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستان اپنی انرجی سپلائی لائن کو بحال رکھنے میں اب تک کامیاب رہا ہے جبکہ مارچ کے دوران تیل اور مائع گیس (ایل پی جی) کے جہازوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسٹریٹ آف ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کے 18 اور ایل پی جی کے 6 جہاز پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچے جس سے توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی گئی۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق مارچ کے دوران کراچی پورٹ پر تیل کے 9 جہاز لنگر انداز ہوئے جن میں پیٹرول کے 2 اور خام تیل کے 7 جہاز شامل تھے۔
دوسری جانب پورٹ قاسم اتھارٹی کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق پورٹ قاسم پر بھی ڈیزل اور پیٹرول کے 9 جہاز لنگر انداز ہوئے جبکہ ایل پی جی کے مزید 6 جہاز بھی اسی بندرگاہ پر پہنچے۔
حکام کے مطابق ملکی بندرگاہوں پر پہلی بار عید تعطیلات اور رات کے اوقات میں بھی جہازوں کی برتھنگ اور ہینڈلنگ کا عمل جاری رکھا گیا تاکہ توانائی کی سپلائی میں کوئی خلل نہ آئے۔ تیل و گیس کے بیشتر جہاز فجیرہ، عمان اور سنگاپور کی بندرگاہوں سے پاکستان پہنچے۔
پورٹ قاسم انتظامیہ کے مطابق ایل پی جی کے 4 جہاز ڈسچارج ہو گئے جبکہ 2 مزید جہاز لنگر انداز ہیں۔ نیوی گیٹر ایریز 11 ہزار 136 میٹرک ٹن ایل پی جی کے ساتھ سوئی سدرن ٹرمینل پر ڈسچارج ہو رہا ہے جبکہ پی جی سی پیری کلیز 3 ہزار 800 میٹرک ٹن ایل پی جی کے ساتھ اینگرو ٹرمینل پر موجود ہے۔
اسی طرح نیوی گیٹر ایٹلانٹک، السواٹر، ایم ڈی-23 اور وینس 9 سمیت متعدد جہاز ایل پی جی منتقل کر کے روانہ ہو چکے ہیں۔