فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی سخت مخالفت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر ایس ایم تنویر نے کہا کہ مارکیٹوں کی بندش سے متعلق ایک جعلی نوٹیفکیشن گردش میں آیا، جس کے بعد تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک ڈرافٹ تھا اور اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جب بھی کوئی فیصلہ کرے، وہ ملکی معیشت، کاروباری طبقے اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کرے تاکہ غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کو آئل پورا مل رہا ہے اور اس حوالے سے گھبرانے یا افواہوں پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک موجود پاکستانیوں کا سرمایہ واپس لایا جائے تو آئندہ دو سے تین ماہ میں ملک کی معاشی صورتحال میں واضح بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا سب کچھ پاکستان ہے اور کاروباری برادری ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت طویل المدتی پالیسی نہیں دے گی تو کاروباری طبقہ مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکے گا۔
ایس ایم تنویر نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بہترین، متوازن اور درست فیصلے کرے تاکہ تجارت، صنعت اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔