فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر اور آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے درمیان ٹیکس معاملات پر ہونے والے تین گھنٹے طویل مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔
مذاکرات میں کراچی، لاہور اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے جیولرز کے وفد نے شرکت کی۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے صدر قاسم شکار پوری کے مطابق فریقین کے مابین سیلز ٹیکس اور ٹیکس نیٹ میں رجسٹریشن کے معاملات پر تو اتفاق رائے پایا گیا، تاہم سیکشن 175 سی کے نفاذ پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
قاسم شکار پوری نے واضح کیا کہ جیولرز ایسوسی ایشن کو 175 سی کے تحت ہر سنار کی دکان پر ایف بی آر کے دو افسران کی تعیناتی کا مطالبہ ہر گز منظور نہیں ہے۔
دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موجود 33 ہزار جیولرز میں سے 18 ہزار ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے جیولرز کا آڈٹ شروع کیا جا رہا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن نے آئندہ 48 گھنٹوں میں باہمی مشاورت کے بعد ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔