حکومتِ پاکستان کے سرپلس پاور پیکیج کے تحت دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران 2,164 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی گئی، جس سے صنعتی اور زرعی صارفین کو مجموعی طور پر 20 ارب 83 کروڑ روپے سے زائد کا مالی فائدہ پہنچا ہے۔
وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے اعلامیے کے مطابق ان تین ماہ میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ان شعبوں کو فروخت ہونے والی کل بجلی کا 23 فیصد بنتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صنعتی صارفین نے اس پیکیج سے 19 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ زرعی صارفین نے 1 ارب 14 کروڑ روپے کی بچت کی۔
صنعتی کیٹیگریز میں B3 صارفین نے 8 ارب 76 کروڑ، B2 نے 5 ارب 34 کروڑ، B4 نے 4 ارب 2 کروڑ اور B1 صارفین نے 1 ارب 48 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا۔
اس پیکیج سے استفادہ کرنے والوں میں B4 کیٹیگری کے 67 فیصد، B3 کے 52 فیصد، B2 کے 48 فیصد اور B1 کے 43 فیصد صارفین شامل ہیں، جبکہ 34 فیصد زرعی صارفین نے بھی اس سہولت سے فائدہ حاصل کیا۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس پیکیج کی بدولت صنعتوں نے اپنی پیدا کردہ مہنگی بجلی کے بجائے قومی گرڈ کی سستی بجلی کو ترجیح دی، جس سے جنوری میں 12 فیصد اور فروری میں 11 فیصد سالانہ بنیاد پر طلب میں اضافہ ہوا۔
دسمبر 2025 میں شروع کیے گئے اس پیکیج کا بنیادی مقصد بجلی کی کھپت بڑھانا، پیداوری صلاحیت کا بہتر استعمال اور پیداواری شعبوں کو مالی ریلیف فراہم کر کے معاشی بحالی کی راہ ہموار کرنا تھا۔