پاکستان فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معیشت اور ایکسپورٹ سیکٹر پر منفی اثر ڈالے گا۔
سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے ملک میں پیٹرول کی قیمت 258 روپے فی لیٹر تھی جو اب بڑھ کر 458 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے یعنی تقریباً 77 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ثاقب فیاض مگوں کے مطابق پیٹرول کی مہنگائی سے سب سے زیادہ اثر ایکسپورٹ پروڈکٹس پر پڑے گا کیونکہ پروڈکٹس کی تیاری کا کاسٹ بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ پہلے ہی مسلسل کم ہو رہی ہے اور اب قیمتوں میں یہ اضافہ صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔
انہوں نے عالمی تناظر بھی پیش کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا، بنگلا دیش، چین اور ویتنام نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں صرف 2 سے 10 فیصد بڑھائی ہیں مگر پاکستان میں یہ اضافہ 77 فیصد کیا گیا ہے جو غیر معقول اور سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ہے۔
ثاقب فیاض مگوں نے حکومت پر زور دیا کہ فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے تاکہ کاروباری شعبہ اور ایکسپورٹ سیکٹر محفوظ رہیں اور ملک کی معیشت مستحکم رہے۔